اقتدار کی غلام گردش اور نااہل حکمران

اقتدار کی غلام گردش اور نااہل حکمران
محمد اقبال عباسی
گزشتہ دنوںٹک ٹاک سٹارحریم شاہ کے دفتر خارجہ میں وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تو سوشل میڈیا پر ایک طوفان بر پا ہو گیا کہ اب دفتر خارجہ پر ڈوم اور ڈومنیوں کا راج دوبارہ قائم و دائم ہو گیایہ معاملہ جہاں الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز کی زینت بنا وہاں پرنٹ میڈیا کے اہل دل نے بھی خوب بھڑا س نکالی کہ اب اقتدار کے ایوانوں میں یحیٰی خان کے دور کی یاد تازہ کر دی گئی ، انصاف اور عدل دیکھیں کہ حریم شاہ کے وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچنے کا ملبہ سیکورٹی گارڈز پر تھونپ کر حکومت وقت سرخرو ہو گئی۔ حریم شاہ اس سے پہلے بھی کئی دنوں سے ایسے کارنامے انجام دے ہی رہی تھی لیکن مہوش حیات جیسی نیم عریاں ماڈل گرل کو نوجوان لڑکیوں کا سفیر مقرر کرنے سے پہلے اس کو قومی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تو اہل سیاست کی ان کرم فرمائیوں پر مجھے ایک جگت یاد آ گئی کہ ایک شخص اپنے دوست کو اپنے خاندانی پس منظر سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے والدچار دیہات کے سردا رو نمبردار تھے اور جرگے کے تمام فیصلوں کا اختیار ان کے پاس تھا ۔قسمت کی خوبی دیکھو کہ ہم بہت بڑے بحران کا شکار ہو گئے ۔اس شخص کا دوست بولا “کیوں؟ کیا ہوا آپ کے والد صاحب کے ساتھ ؟ ۔ بس بیٹھے بیٹھے ایک ہیجڑے پہ عاشق ہوئے اور۔ “تو پھر ؟ دوسرا شخص بولا “بس اب ہیجڑہ چار دیہاتوں کا نمبردار ہے اور اابّا سرکس میں کام کرتا ہے۔ “کچھ دوستوں کو یہ جگت شاید فحش اور ناقابل یقین لگے لیکن تقسیم پاکستان سے لے کر اب تک جن 400خاندانوں نے ہماری غریب عوام پر حکومت کی ہے ان میں سے اکثر آج بھی ڈومنیوں ، میراثیوں اور ہیجڑوں کے ہاتھوں ہی زوال کا شکار ہو کر اپنے انجام کو پہنچے ہیں ۔
سکندر مرزا سے لے کر آج تک ہر صاحب ذی عزت و حشمت پاکستانی نے اپنے قومی وقار اور عہدے کو دائو پر لگا کر نہ صرف اپنی عیاشی اور حسن پرستی کی داستانیں رقم کی ہیں بلکہ اپنی راتوں کو رنگین بنانے کے لئے قومی خزانے کو بھی دونوں ہاتھوں سے لٹایا ہے ۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو جہاں سکندر مرزا ، یحیٰی خان جیسے عیاش حکمران ملیں گے ، وہاں اس حمام میں سب ننگے نظر آئیں گے بلکہ سکندر مرزا سے لے کر موجودہ حکمرانوں تک ہمارے وطن عزیز کی جذباتی عوام کو اپنی لیڈر کی آنکھ کا شہتیر تو نظر نہیں آتا مگر سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کا ٹھیکہ ہم نے مفت میں لے لیا ہوا ۔ خادم اعلیٰ ہو یا ملک کے حالات بدلنے والے سیاسی مداری وہ سب کسی نہ کسی طرح دار حسینہ کی زلفوں کے ایسے اسیر ہوئے کہ اپنے عہدے کی عزت و عظمت کو بھی بھول گئے ۔ سابق صدر پرویز مشرف نے تو اپنی رنگین داستاں اپنی کتاب میں رقم کر ڈالی اور ایک ایسے مادر پدر آزاد معاشرے کی بنیاد ڈالی جس میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ہمارے لیڈر کا ذاتی فعل ہے ۔
تم اگر مجھ سے حسد کرتے ہوتو مجھے قتل کرادیا ہوتا ، تم مجھ پر دو قاتلانہ حملے کرا چکے ہو۔ دونوں ناکام ہوئے اب ایک اور کوشش کر کے دیکھ لو، ہو سکتا ہے کامیاب ہو جائو۔ اگر تم مجھے یقین دلا دو کہ میرا سر میرے تن سے جدا ہو جائے تو اسلام اور زیادہ سر بلند رہے گا تو رب کعبہ کی قسم! میں اپنا سر تمھارے تلوار سے کٹواؤںگا اور تمھارے قدموں میں رکھنے کی وصیت کرونگا۔ میں صرف تمھیں یہ بتادینا چاہتا ہوںکہ کوئی غیر مسلم مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا، تاریح تمھارے سامنے ہے، اپنا ماضی دیکھو!، شاہ فرینک اور ریمنڈ جیسے اسلام دشمن تمھارے دوست اس لئے ہیں کہ تم نے انھیں مسلمانوں کے خلاف جنگ میں اترنے کی شہ اور مدد دی ہے۔ اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو انکا اگلا شکار تم ہوتے اور اس کے بعد ان کا یہ خواب بھی پورا ہوجاناتھا کہ اسلام صفحہ ھستی سے مٹ جائے۔ تم جنگجو قوم کے فرد ہو۔ فن سپاہ گری تمھارا قومی پیشہ ہے۔ ہر مسلمان اللہ کا سپاہی ہے مگر ایمان اور کردار بنیادی شرط ہے۔ تم پرندوں سے دل بہلایا کرو، سپاہ گری اس انسان کے لیے ایک خطرناک کھیل ھے جو عورت اور شراب کا دلدادہ ہو۔ میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے ساتھ تعاون کرو اور میرے ساتھ جہاد میں شریک ہو جائو، اگر یہ نہیں کرسکتے تو میری مخالفت سے باز آجائو، میں تمھیں کوی سزا نہیں دونگا۔۔۔۔اللہ تمھارے گناہ معاف کریں۔۔۔۔۔ فقط۔صلاح الدین ایوبی، یہ ہے وہ خط جو فاتح بیت المقدس اور اسلام کے عظیم مجاہد سلطان صلاح الدین ایوبی نے نہ صرف اپنے چچا زاد بھائی کے ایک امیر سیف الدین کو لکھے تھے لیکن یہ خط مسلم امّہ کے ہر نوجوان اور قائد کے لئے ایک وصیّت کی حیثیت بھی رکھتا ہے جس میں یہود و نصاریٰ کے ناپاک ارادوں کو بے نقاب کیا گیا ہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک طاغوتی طاقتیں شباب اور شراب کا سہار ا لے کر ہی ہمارے مضبوط قلعوں میں سیندھ لگاتی رہی ہیں اور ایسے ہی کامیاب رہی ہیں جیسے حریم شاہ وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچنے میں کامیاب رہی ہے۔
دیکھا جائے تو حریم شاہ کی ٹک ٹاک ویڈیو ہمارے لئے نہ صرف ایک اشارہ ہے بلکہ ایک استعارہ ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی بھی خاتون خوبصورت ہو اور اپنی ادائوں سے لوگوں کو لبھانا بھی جانتی ہو تو آسانی سے اقتدار کی غلام گردشوں اور بھول بھلیوں کو عبور کر کے کامیابی کا تاج اپنے سر پر سجا سکتی ہے۔ کوئی بھی تعلیم یافتہ اور حسن ظن رکھنے والا درد مند شہری اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے ہمیشہ سوائے زبانی جمع خرچ کے اور روٹی کپڑا ، مکان کے سبز باغ دکھا کر قوم کو نہ صرف لوٹا ہے بلکہ قومی خزانے کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہوئے ڈریکولا کی طرح غریب عوام کا خون چوسا ہے ، ایک محفل میں اقتدار کے سنگھاسن پر برا جمان پارٹی لیڈر سے کسی محفل میں میری بات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ عوام کو دو سال مزید قربانی دینی ہو گی اس کے بعد حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے اور عوام سکھ کا سانس لیں گے تو مجھے ہنسی آ گئی کیونکہ مجھے اس نجومی کا مشہور لطیفہ یاد آ گیا جس نے کسی کا ہاتھ دیکھتے ہوئے کہ دو سال تک تم پر بے روز گاری اور غربت کے بادل چھائے رہیں گے ۔ ہاتھ کی ریکھائیں دکھانے والے نے خوش ہوتے ہوئے نجومی سے پوچھا کہ اس کے بعد کیا ہوگا ۔نجومی نے جواب دیا “دو سال کے بعد تم اس کے عادی ہو جائو گے ۔” لگتاہے محترم نے شاید پوری محفل کو یہی بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ حکومتی کار کردگی کا گرتا گراف تو سنبھلنے سے رہا ، اب شاید دو سال کے بعد عوام اس مہنگائی ، بد امنی ، فحاشی و عیاشی کی ایسے ہی عادی ہو جائے جیسا سابقہ 72سال سے ہوتا آ رہا ہے یا ہو سکتا ہے دو سال کے بعد سیاست کے بڑے مداری کو ئی نیا کٹا کھول کے بیٹھ جائیں کیونکہ تحریک انصاف کا انصاف تو سانحہ ساہیوال کے فیصلے کے بعد سب کے سامنے ہے ، کپتان کی بے بسی ، حکومتی وزراء کی من مانیاں اور ناقص کارکردگی کا پول تو عوام کے سامنے کھل ہی گیا ہے لیکن پتہ نہیں کب پاکستانی عوام کو نئے پاکستان کا سورج دیکھنے کو ملے گا ؟
؎ وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پائوں ننگے ہیں بے نظیروں کے
،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com