اقبال طارق کے اعزاز میں ایک تعارفی شعری نشست

اقبال طارق کے اعزاز میں ایک تعارفی شعری نشست
شفقت اللہ
اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز کے زیر اہتمام گزشتہ شب بحرین میں مقیم بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر، مصنف و ادیب اقبال طارق کے اعزاز میں ایک تعارفی شعری نشست کا انعقاد فیصل مگھیانہ میموریل ہسپتال میں کیا گیا جس کی صدارت پاکستانی نژاد بحرین میں مقیم اقبال طارق نے کی۔ مہمان خصوصی فیصل آباد سے آئے مہمان شاعر، نقاد، مبصر و ادیب عطا ء الحسن،میزبان ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ تھے جبکہ نظامت کے فرائض نوجوانوں کے معروف نمائندہ شاعر مدثر حبیب جامی نے ادا کئے۔ اس مختصر نشست میں جھنگ کے دیگر معروف شعراء معمارنسل نو محمد اشفاق انجم، ڈاکٹر ظفر پاتوانہ، ڈاکٹر عمر ساحل، ملک شفقت اللہ شفی سمیت دیگر مقامی شعراء نے اپنا کلام پیش کیااور خوب داد وصول کی۔ مہمان خصوصی عطا ء الحسن نے فیصل آباد کے مخصوص رنگ میں کلام سنا کر سامعین و حاضرین کے دل جیت لئے۔ان کا کہنا تھا کہ جھنگ کی سرزمین کے بارے میں جس طرح،عشق و محبت کی داستانیں ملتی ہیں یہاں کے باسیوں کو کچھ الگ نہیں پایا۔یہاں کے شاعروں کی شاعری میں حقیقت شناسی ملتی ہے، جدت کے نام پر شعریت کو بگاڑا نہیں گیا بلکہ ہر خیال و زمین کا مالک شاعر خود آپ ہے اور ہر شعر لائق داد و تحسین ہے۔نشست کے صدر اقبال طارق نے اپنے تجرباتی انداز میں بڑے دھیمے مگر مضبوط لہجے سے انتہائی عمدہ شعروں سے نوازا جو نوجوان شعراء اور نو آموزوں کیلئے ہر لحاظ سے قابل توجہ اور سیکھنے لائق تھے۔انہوں نے کہا کہ جھنگ کے لوگ انتہائی محبت کرنے والے اور دلگیر ہیں۔اس شہر میں پہلی دفعہ آیا لیکن ان لوگوں کی اپنائیت نے مجھے گھر جیسا ماحول دیا جس کیلئے میں ان کا انتہائی شکر گزار ہوں۔اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز کے چئیرمین ڈاکٹر نیاز علی محسن مگیانہ ادب و سخن کا ایک معتبر حوالہ ہیں اور ان کی علمی و ادبی خدمات کی دنیا معترف ہے۔ آج ان کی قرابت داری میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا،جس طرح یہ دو دریاؤں کے سنگم اور باہو کی سر سبز و شاداب دھرتی ہے اسی طرح یہاں کے شعراء کے کلام میں بھی تازگی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح جھنگ کے باسی جھنگ میں رہتے ہوئے ادب و سخن کی ترویج و ترقی کیلئے کام کر رہے ہیں اس میں ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ اور ان کے احباب کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔میزبان قومی و بین الاقوامی شہرت یافتہ،ادب و سخن کی پہچان، مزاح نگار، مصنف، ادیب وشاعر ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ نے اپنے مخصوص لہجے کی پنجابی و اردو شاعری سے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ ادب و سخن سے منسلک لوگوں کیلئے لکھنا اور کہنا روح کی غذا ہے۔اقبال طارق اور عطا ء الحسن جیسے قابل شعراء کی جھنگ آمد کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔ ایسے شاعروں کی وجہ سے نوجوان اور نو آموز شعراء کو نہ صرف سیکھنے کو ملتا ہے بلکہ ان کے حوصلے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔ اس نشست کا مقصد یہاں کے باسیوں کو نہ صرف عالمی ادب سے روشناس کرانا تھا بلکہ ادب و سخن کی عمروں خدمت کرنے والوں سے نوجوانوں کا تعارف کروانا بھی ہے۔نشست کے اختتام پر ادیبوں کے درمیان کتب کا تبادلہ ہوا جن میں ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ کی کتاب ”ایک نہیں چار چار“اور اقبال طارق کی کتاب ”چند خواب“ شامل ہیں۔آخر میں اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز کی جانب سے ہائی ٹی کا اہتمام بھی کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com