افسانہ نگار اِرم ہاشمی کی کتاب ”میانولی کا ٹی ہاؤس“

اقبال زرقاش
پنجاب کا تاریخی خطہ زمین میانوالی زبان، رسم و رواج، علم و ادب، تاریخ، عسکری روایات اور قومی خدمات کے حوالہ سے کسی تعارف کامحتاج نہیں۔ شعری روایات سے وابستہ اس خطہ کی یہ خوش نصیبی ہے کہ اِسے نثر نگاری کے حوالے سے اِرم ہاشمی کے رُوپ میں ایک تابندہ کردار میسر آگیا ہے۔
اِرم ہاشمی نے تیرہ افسانوں پر مشتمل اور ایک سو چار صفحات پر محیط اُردو افسانوں کا مجموعہ” ٹی ہاؤس” لکھ کر جہاں کہانیاں پڑھنے والے قارئین کو حیرت زدہ کیا ہے وہاں عہدحاضر کے نقادوں کو بھی چونکا دیا ہے۔ پنجاب بالخصوص میانوالی کے مردوں کے معاشرے میں اِرم ہاشمی کی توانا آواز ناصرف سماج کے صنفی امتیاز کے خلاف بغاوت ہے بلکہ عورت کو پہچان کے بحران سے نکالنے کا وسیلہ بھی ہے۔ ایک عورت کے محسوسات اور حساس لکھاری کے جذبات سے گندھا ہوا اُردو افسانوں کا مجموعہ” ٹی ہاؤس “معاشرے کے ُمنہ پر ایک زوردار تمانچہ بھی ہے اور دَم توڑتی انسانیت کا نوحہ بھی ہے۔
“بن بیاہی” اور “ناموری” کے نام سے کہانیاں لکھنے سے پہلے اِرم ہاشمی کو آہنی اعصاب کہاں سے لانا پڑے شاید اس بات سے کوئی نقاد پردہ نہ اُٹھا سکے۔ تاہم عورت کے حوصلہ اور جذبہ سے آشنا ماہرین نفسیات اس کا کھوج ضرور لگا سکیں گے۔” ک یبرے ڈانسر” اور “بانجھ” جیسے افسانے یونہی بیٹھے بیٹھائے تخلیق نہیں ہو جاتے بلکہ اس کے لیے افسانہ نگار کو گہرے مشاہدے اور ژرف نگاہی سے کام لیتے ہوئے برسوں کی تپسّیا سے اپنا پتہ پانی کرنا پڑتا ہے اور اِرم ہاشمی نے بلاشبہ یہ کر دکھایا ہے۔ تاہم اس تناظر میں انگریزی کی خوبصورت تخلیق “بلبل اور گلاب “کو بھی پیش نظر رکھا جائے تو فنِ افسانہ نگاری کے لیے اِرم ہاشمی کی ریاضت سمجھ میں آسکتی ہے۔ ارم نے بعض افسانوں کو ڈرامائی ٹچ بھی دیا ہے۔ مشلاً “سائبان “کے اختتام کو خوبصورتی سے ڈرامائی انداز دینا ان کا فنی کمال ہے۔ اسکے علاوہ “سائبان” میں صنفی امتیاز اور مردوں کی اجارہ داری کے ساتھ ساتھ سماجی بندھنوں اور رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ عرق ریزی سے آشکار کی گئی ہے۔
“معروف شاعرہ کے نام برقی نامے” بھی ایک چونکا دینے والا بیانیہ لیے ہوئے ہے۔ ارم ہاشمی نے مختلف مکاتب فکر و روزگار سے متعلق افرادکی ذہنی کیفیات کو جس خوبصورتی سے بیان کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کی نباض ہیں۔ “آوارہ “میں ایک ورکنگ وومن کے مسائل، جذبات و احساسات، مجبوریوں اور اندیشوں کو صفحہ قرطاس پر اِس طرح بکھیرا گیا ہے کہ یہ ہر قاری ورکنگ وومن کو اپنی کہانی لگے کیوں کہ عورتوں کو گھروں سے باہر کام کی غرض سے جانے اور واپس لوٹنے میں سو فی صد ایک ہی جیسے مسائل سے نبرآزما ہونا پڑتا ہے اور اس دوران ایسی عورتیں پِس کر رہ جاتی ہیں۔ وہ اپنے خاوند، بچوں، رشتہ داروں، کولیگ اور سماج کو اپنی بے گناہی ثابت کرتے کرتے زندگی گزارد یتی ہیں اور سوچتی رہ جاتی ہیں کہ وہ اس کا رزار سے نکل بھی پائیں گی یا نہیں؟
“جاری کہانی” اپنے منفرد عنوان کی طرح نفسِ مضمون کے اعتبار سے بھی ایک الگ انفرادیت رکھتی ہے۔ اس کہانی میں ایک ایثار پیشہ بیٹی کی اپنے باپ سے لازوال محبت دکھائی گئی ہے۔ ایسی محبت بلاشبہ ایک بے ریا بیٹی ہی اپنے باپ سے کر سکتی ہے۔۔ جذبات میں گندھی ہوئی اس کہانی کی اپنی ہی ایک تاثیر ہے جو سمجھنے سے زیادہ محسوس کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔المختصر اِرم ہاشمی نے اپنے افسانوں میں سماج کے دہکتے ہوئے موضوعات کو طشت ازبام کیا ہے اور اس دوران عورت کا کردار پیش پیش رکھ کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ معاشرے کی ہر کہانی دراصل عورت کہانی ہوتی ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ گھوم پھر کر عورت کی ذات کے گرد اگردکُنڈل مارکر بیٹھ جاتی ہے۔
میں ” ٹی ہاؤس” کے افسانوں کے پسِ منظر میں اِرم ہاشمی کی دلیری اور جرآت کو سلام کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان ادب پبلشر ز میانوالی کو بھی “ٹی ہاؤس “جیسے مجموعے کی خوبصورت اشاعت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کر تا ہوں کہ ارم ہاشمی کے فن ِ ارتقاء کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ بھی ترقی کی منازل طے کرنے میں کوئی دقیقیہ فروگذاشت نہیں کرے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com