افسانہ ”تشہیر“….تحریر: نبیلہ خان


یتیم خانے کے در و دیوار کو خوب رگڑ رگڑ کر صاف کیا جا رہا تھا تھا۔دودن کے شارٹ نوٹس پر یتیم خانے کی انتظامیہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوتے ہوئے بوسیدہ عمارت کو حتی الامکان ٹھیک کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔ ٹوٹے ہوئے گملوں کی جگہ نئے گملوں کو رکھا جا چکا تھا تھا۔ اور ادھڑی ہوئی دیواروں پر جزوقتی مرمت کے ذریعے سے بہتری لانے کی کوشش میں ناقص مٹیریل پر بھی حکومت کا اچھا خاصہ پیسا خرچ کیا جا چکاتھا۔۔ ان سب کاموں کو سرانجام دینے کے لئے یتیم خانے میں موجود ع ننھے بچوں کوتختہ مشق بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی۔۔۔
باوردی ڈرائیورنے نہایت چستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پراڈو کا دروازہ نہایت ادب سے کھولا اور خود تھوڑا سا ایک طرف ہو گیا۔ ایک طرف ہو گیابلکہ تھوڑا سا ایک طرف ہو گیا۔۔۔ ایم پی اے صاحب پورے طمطراق کے ساتھ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ ان کے بیٹھنے کے بعد ڈرائیور اور سیکورٹی گارڈز نے بھی اپنی اپنی جگہ سنبھالی۔ ایم پی اے صاحب آج موقع کی مناسبت سے نہایت سادگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفید کلف لگے برینڈڈ مہنگے سوٹ میں ملبوس تھے۔ اسی مناسبت سے سر پر سندھی ٹوپی بھی سلیقے سے جما رکھی تھی،پاؤں میں برینڈڈ مگر سادہ جوتے،، ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی اور ڈیڑھ لاکھ سے اوپر کی گھڑی پہنتے ہوئے خود پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے مہنگا ترین پرفیوم بھی چھڑک چکے تھے۔آج کا دورہ ان کی الیکشن کمپین کے لیے نہایت اہم سنگ میل ثابت ہونا تھا۔۔۔
بخشو! میڈیا کوریج کا انتظام مکمل ہے نا؟ جی سرکار سب حسب معمول ٹھیک ہے۔۔ بخشو نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا۔۔
ہمم۔ ٹھیک۔! ایم پی اے صاحب نے ایک ہنکارابھرا،باقی کا راستہ خاموشی سے ہی کٹا۔۔۔
یتیم خانے کا بڑا سارا گیٹ کھولا گیا تو یکے بعد دیگرے دو گاڑیاں اندر رینگتی ہوئی سامنے بنے گیراج میں رک گئیں باور دی ڈرائیور نے ایک بار پھر پھرتی کا مظاہرہ ڈرائیور نے ایک بار پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ادب سے گاڑی کا دروازہ کھولا تو ایم پی اے صاحب بڑی بے نیازی سے چلتے ہوئے ایک طرف کھڑے بڑے میڈیا کے لوگوں کو ہاتھ ہلانے لگے جبکہ دوسری طرف یتیم خانہ کی انتظامیہ کے اراکین بھی جھک جھک کر سلام کرنے آگے بڑھے۔۔
ایم پی اے نے بخششو کے کان میں کچھ کہا تو اس نے مؤدبانہ انداز میں سر تسلیم خم کرتے ہوئے گاڑی کی ڈگی کی طرف جاتے اپنے ساتھ آئے گارڈز میں سے ایک کو اشارہ کیا تو وہ بھی ساتھ ہو لیا۔۔
اقبال صاحب! بچوں کی کیا پوزیشن ہے؟ میرے پاس زیادہ وقت نہیں، جلدی سے بچوں کی قطاریں بنوالیں.. تاکہ میڈیا اور میں اپنا اپنا کام فوری طور پرمکمل کر سکیں..
اس کے بعد میری ایک اہم میٹنگ بھی ہے۔۔ ایم پی اے صاحب نے خاصی بیزاری سے یتیم خانے کے منتظم کو مخاطب کیا اس نے بھی جلدی سے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا سائیں!سب تیار ہیں۔آپ آئیں بسم اللہ کریں۔
بخشو کے ہاتھ میں چند بسکٹوں کے ڈبوں میں گھٹیا قسم کے سستے سے بسکٹ بھی ایم پی اے صاحب کی سخاوت پر شرمندہ ہوتے ہوئے بخشو کے ہاتھوں سے پھسلتے ہوئے زمین بوس ہو چکے تھے۔ جو وہ بچوں میں تقسیم کرنے کے لیے ساتھ لائے تھے اور جن کی تشہیر کے لیے حکومت کے خزانے سے ہزاروں روپے بے دریغ لوٹائے گئے تھے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com