اصل کہانی کیا اور کامیابی کتنی بڑی۔۔۔

اصل کہانی کیا اور کامیابی کتنی بڑی۔۔۔
اے آر طارق
وطن عزیز پاکستان میں کچھ دنوں سے ضمانتوں کی جھڑی لگنے کے بعداب بیماروں کی بھی جھڑی لگ چکی ہے۔ملک کی ٹاپ ٹین شخصیات بیمار ہوکر سٹیچروں اورویل چیئروں پر ہسپتالوں کا رخ کرچکی ہیں اورانتہائی لاغر ولاچار ہوئے ڈاکٹر ڈاکٹر پکارے ڈاکٹروں کے رحم وکرم پر ہیں۔کرپشن کے باعث اپنی پتلی حالت کے پیش نظر بیماریوں کا ’’ناٹک‘‘ اور ’’سوانک‘‘ رچائے’’ کبھی اُف کبھی ہائے‘‘ کیے’’ اب گئے اب بچے ‘‘جیسی اٹکھیلیاں کرتے جیسی کیفیات سے گزررہے ہیں۔بہت بیمار ہوئے یا من پسند ڈاکٹروں سے کہلوائے علاج معالجہ کی آڑ لے کر جیل سے ضمانتو ں پر رہائی پاکر بیرون ملک علاج کے خواہشمند ہوئے فرار چاہتے ہیں۔وطن عزیز کے ایسے سیاست دان جوجب بھی اقتدارواختیار میں ہوتے ہیں خوب موج مستیاں کرتے ہیںہوائوں میں اُڑتے نظر آتے ہیںجن کے اقتدار کے دنوں میں پائوں زمین پر نہیں ٹکتے ہیں۔ہٹے کٹے اورہشاش بشاش،نہ کوئی درد، نہ کوئی تکلیف کا احساس ،ہر طرف سے سب اچھاکی ہی رپورٹ آتی ہیںمگرجیسے ہی یہ سیاستدان کسی کرپشن کیس میں پکڑے جاتے ہیںیا طلب کیے جاتے ہیں تو فوراًہی بیمار پڑجاتے ہیں۔کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔آخر ایسا کیوں؟جب یہ لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں تو اِن کو کوئی بیماری نہیں ستاتی اور نہ ہی کسی کی کمردرد ہوتی اورنہ ہی کسی کو اور کوئی تکلیف نکلتی مگر جیسے ہی کسی معاملہ میں گرفتار ہوجاتے تودنیاجہاں کی دردیں اور
تکلیفیں اِن کے بدن میں سرایت کرجاتی ہیں۔آخر ایساکیوں ہے؟آخر یہ سب دردیں اور تکلیفیں اقتدار چھن جانے اورکوئی آفت آجانے کے بعد ہی جسم سے کیوں نکلتی ہیںتوبات یہ ہے کہ یہ سیاست دان ٹھہرے،مکاری وعیاری اِن کی خاندانی وراثت ہوتی ہے ہرحال میںاپنے آپ کو بچانے کے فن سے بخوبی واقف ہوتے ہیں ۔اِن کو پتا ہوتا ہے کہ کون سی حالت میں کون سا ’’ناٹک‘‘ کرکے بچاجاسکتاہے۔جب جرم سنگین ہوتو پکڑے جانے پر سیاسی انتقام کی صدائیں لگاتے ریلیف لینے کی کوشش کرتے ہیں۔جب بات نہ بنے توپھر ظلم ظلم کی دہائیاں دیتے ہیں۔پھربھی بات نہ بنے تو بیمار پڑجاتے ہیں۔اپنے آپ کو ایسا لاغر شوکرتے ہیں کہ جیسے اب کبھی بھی نارمل زندگی میں واپس نہ آسکیں گے۔’’بے بسی‘‘ اور’’ لاچارگی کی تصویر بنے ‘‘کا روپ دھار لیتے ہیںاورایسا’’ بیماری ناٹک‘‘ کرتے ہیں کہ جس سے واقعی ہی لگے کہ بندہ شدید بیمار ہے ہسپتال داخل نہ کروایاتو ’’یہ جاوہ جا ‘‘والا معاملہ بھی ہوسکتا ہے۔بیماری کا ذکرشدومد سے اتنے زور دے کر ڈھول بجاکر کرتے کہ ڈرامے میں بھی حقیقت نظر آنے لگتی ہے۔اپنی بیماری کی ایسی تشویش ناک صورتحال پیداکرتے ہیں کہ بیماری کی BREAKING NEWS بن جاتے ہیں۔اپنے ناٹکوں اور اداکاریوں کے ایسے جوہر دکھاتے ہیں کہ معزز عدلیہ کی آنکھوں میں بھی دھول جھونک دیتے ہیں۔معزز عدلیہ کے قابل احترام ججوں کوبھی اپنی بیماری کے سبب خود ہسپتالوں میں اورضمانتوں کے لیے ارجنٹ نوعیت کی درخواست دے کر طبی بنیادوں پر ضمانتیں لے کر چکرا دیتے ہیں۔جو اِن کو کمرہ عدالت میں بیٹھے وکلاء کے ذریعے میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر بیماری کی سنگینی کے پیش نظر فوراً ہی سب فریقین کوبلاکر ،کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں کہنے کے بعد راضی وتیار دیکھ کر ضمانتیں دے دیتے ہیں۔پھرکیا ہوتاہے کہ جیسے ہی بیماری کے سبب اِن کی ضمانتیں کنفرم ہوتی ہے اِن کا عالم وہ ہوجاتاہے کہ جیسے برسوں کا ویل چیئر پربیٹھا شخص اچانک اُٹھ کھڑا ہویا سٹیچر پر لیٹا آدمی سٹیچر سے اُتر آئے اور ایسا معجزہ تب ہی ہوتاہے جب اِن کو ضمانتیں مل جاتی
ہیں۔کاش ضمانتیں مل جانے کے بعد کی صورتحال کو جانچنے کے لیے کوئی طریقہ یا خفیہ کیمرہ ہوتواِن کی ضمانت کے بعد کی خوشیاں دیکھنے والی ہوتی،ساتھ ساتھ اچھل کود اوراچانک ویل چیئر یا سٹیچر سے اُٹھ جانا۔ایسے کمال کے سیاست دان جو جانتے کہ حکومت ا اُس کے اداروں کو کیسے اپنی انگلیوں پر نچاتے،جب بات بڑھ جائے تو بیمار ہوجاتے ،کیس ریلیف نہ ملنے پر بیماری ریلیف پاجاتے اورسارے جرموں میں سزایافتہ ہونے اور سب جرم کرنے کے باوجودضمانت پاتے ایک کے بعد دوسری بار گھرجاتی امراء منتقل ہوجاتے ہیں۔سرکاری ہسپتالوں اور شریف سٹی ہسپتال میں بھی سرکاری ڈاکٹروں کو اپنے پاس نہیںپھٹکنے دیتے،ڈاکٹر عدنان بلاتے اور اپنے گھر منتقل ہوکر تو بالکل ہی کسی کو نہیں بلاتے ،نہ کوئی ٹیسٹ کرواتے،دن پورے ہونے پر دوبارہ جیل جاکر پھر سے بیماری ریلیف کی درخواست دے کر ریلیف پا جاتے۔کسے صبرو استقامت والے مریض ہیںکہ جب جیلوں سے صحت خراب ہونے پر ہسپتال آتے تو ہسپتال میں ہی رہتے اور ضمانت مل جانے پر فوراًہی گھر لوٹ جاتے ،اپنی خراب حالت جس میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا بقول ڈاکٹروں کے حالت بہت خراب ،سینکڑوں ڈاکٹروں و نرسوں کی نگہداشت چھوڑکراپنے گھر ڈاکٹر عدنان کے رحم وکرم پر ہوجاتے ہیں۔ پھر تعجب اِس بات پر ’’دوران ضمانت پریڈ‘‘گھر پربالکل ٹھیک رہتے ،حوالات منتقلی پھر بیمار پڑجاتے۔اِن صاحب نوازشریف کا پانامہ کرپشن کیس پر لگا تماشا بھی عجیب رنگ لیے ہوئے تھا اور اب بیماری پر بھی الگ ہی سماں باندھے ہوئے ہے۔ اِن کی جیل جانیاں اور پھر جیل سے ضمانت پاتے ہی سیدھے گھر آنیاں ’’اداکاری‘‘کی تمام حدوں کو چھوتاہوا ایک کمال شاہکار ہے اور فلم ’’نوازشریف کی بیماری‘‘ کے ڈائریکٹرڈاکٹرعدنان کی نوازشریف کی بیماری میں خاصا رنگ بھرنے کی عمدہ کاوشوں کا ایک بہترین نمونہ ہے۔شہبازشریف کے بیٹے سلمان شہباز کی نوازشریف کی طبی بنیادوں پر عدالت سے آٹھ ہفتوں کی ضمانت کے بعد یوں حکومتی حلقوں کی جانب سے جانے نہیں دوں گا،چھوڑوں کا نہیں کے بعد اب اچانک ہی بیماری کے باعث علاج معالجے
کی غرض سے لندن جانے کی اطلاع وتصدیق کے فوراًبعد سلمان شہباز کی GAME CHANGER کے عنوان سے کی گئی ٹوئیٹ جس میں شہبازشریف بازی پلٹنے والے کے طور پر دکھائے گئے ہیں بیماری کی تمام صورتوں،حالتوں،شکلوں میں ہونی انہونی سے انتہائی مکارانہ و چالبازانہ حالت میں سارے چھپے حقائق سے پردہ اُٹھا رہے ہیں۔شہبازشریف کے بیٹے سلمان شہباز کی ٹوئیٹ ساری کہانی خود ہی زبان حال سے گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے بتارہی ہے کہ اصل کہانی کیا اور یہ کہ کامیابی کتنی بڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com