اسلامو فوبیا اور صلیبی جنگی جنون

اسلامو فوبیا اور صلیبی جنگی جنون
تحریر ۔ محمد اقبال عباسی
آج جب میں نے عالم اسلام کی بے حسی اور اہل یورپ کی بے غیرتی پہ لکھنے کے لئے قلم اٹھا یا تو زندگی میں پہلی باراس نے میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی تحریر لکھتے ہوئے قلم کانپ رہا ہو ، لفظ گڈ مڈ ہو رہے ہوں تو سمجھ لیں آج قلم کے آنسو نہیں رک رہے ۔ آج پہلی بار میرے قلم کی چال میں لڑکھڑاہٹ ہے اور الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا ۔ بزبان خا موشی وہ یہی کہہ رہا ہے کہ ایسی تحریریں تو لکھتے لکھتے مجھے صدیاں ہو گئی ہیں لیکن میرے اپنوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی ، اب تم کس کھیت کی مولی ہو کہ بے غیرت یورپ کے مذموم اور ناپاک مقاصد پر لکھو۔”ہمیں کل اپنے کاموں پر واپس جانے کی ضرورت ہے اور ہم جائیں گے۔ لیکن ہمیں مستعد رہنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے خبیث لوگ اب بھی موجود ہیں۔ ہم نے طویل عرصے سے اس طرح کی بربریت نہیں دیکھی۔ کوئی شخص اس بات کا تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ خوش کش حملہ آور ہمارے معاشرے میں چھپ بیٹھیں گے اور پھر ایک ہی دن اپنے ہوائی جہاز، ہمارے امریکی ہوائی جہاز، اڑا کر معصوم لوگوں سے بھری عمارات سے ٹکرا دیں گے اور کسی قسم کی پشیمانی ظاہر نہیں کریں گے۔ اس صلیبی جنگ (crusade)، دہشت گردی کے خلاف جنگ کا طبل بجنے جا رہا ہے۔ اور امریکی عوام کو صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ میں بھی صبر کا مظاہرہ کروں گا۔ لیکن میں امریکی عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میں ثابت قدم ہوں، اور پیٹھ نہیں دکھاو¿ں گا۔ میری توجہ اس امر پر مرکوز ہوگی کہ نہ صرف ان کو بلکہ ان کی مدد کرنے والے سب افراد کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لاو¿ں۔ جو دہشت گردوں کو پناہ دیں گے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہم 21 ویں صدی میں اپنی پہلی جنگ فیصلہ کن انداز میں جیتیں، تاکہ ہمارے بچے اور ہماری آنے والی نسلیں 21 ویں صدی میں پرامن انداز میں رہ سکیں“ یہ ہیں وہ الفاظ جو جارج بش نے 9/11کے واقعہ کے بعد اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہے گوجارج بش کی تقریر میں صلیبی جنگ کے الفاظ پر یورپ اور مسلم ممالک میں کڑی تنقید کی گئی لیکن مفکّرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس واقعہ کے بعدیہود و نصاریٰ کے ساتھ ساتھ ہنود بھی مسلم امّہ کے خلاف ایسے یکجا ہوئے کہ اپنی گھناﺅنی سازشوں ، غیر اخلاقی ہتھکنڈوں اور مسلم کش پالیسیوں کو ہی اپنا محور و مرکز بنا لیا۔
اسلام سے یورپ کی نفرت کا سب سے بڑا ثبوت حال ہی میں ناروے کے شہر کرسٹین سینڈ(جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے) میںاسلام مخالف مظاہرے کے دوران قرآن پاک کی توہین کا وہ افسوسناک واقعہ ہے جس میں انتہا پسند اور اسلام مخالف تنظیم (سیان) کے بد بخت رہنما لارس تھورسن نے قرآن پاک کو آگ لگانے کی کوشش کی جسے ایک مسلمان نوجوان عمر الیاس دابہ نے ناکام بنادیا۔ آپ میں سے کافی لوگ اسلام مخالف تنظیم سیان (Stop Islamisation of Norway) کے نام سے بھی ناواقف ہوں گے۔لیکن یاد رہے کہ 2008ءمیں اسلام دشمنی اور مسلم کش پالیسی پر کام کرنے والی اس تنظیم کا مقصد یورپ سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ اسلام کا خاتمہ ہے ، جس کا بانی آرنی تومیر نامی بد بخت تھا جس نے Totalitarianسیاسی پالیسی اپنائی جس میں مخالفین کوہر حربے سے کچلنا شامل ہے ۔ ایک سروے کے مطابق اس کے صرف فیس بک پر 3000سے زیادہ نارویجئین فالوورز ہیں اور آزادی اظہار کے نام پر ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کے خلااف زہر اگلنا ہی اپنا شیوہ بنائے ہوئے ہیں ۔اس پر بس نہیں بلکہ یہود و ہنود بھی اسلام دشمنی میں نہ صرف پیش پیش ہیں بلکہ کوئی بھی ایسا موقع نہیں جانے دیتے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی مذہبی دل آزاری ہوتی ہو ۔ امریکہ ، اسرائیل کے علاوہ اس میں بر اعظم آسٹریلیا کے کچھ لوگ بھی شامل ہیں۔آسٹریلیا کے بعض متشدد اور متعصب باشندوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی تیزی سے بڑھتی ہ±وئی یہ آبادی خود آسٹریلیا کی معیشت اور کلچر کے لیے ”خطرہ“ہے۔ جرمنی، ناروے اور ہالینڈ کی مسلمان دشمن تنظیموں کی دیکھا دیکھی آسٹریلیا میں بھی دی یونائٹڈ پیٹریاٹس فرنٹ جیسی کئی تنظیمیں سر ا±ٹھا رہی ہیں جو اسلامو فوبیا کا شکار ہو کر مقامی مسلمانوں کے لیے سنگین خطرے کا باعث بن رہی ہیں۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق،صرف آسٹریلیا میں سکارف پہننے والی عورتوں کو ہراساں کرنے کے 113 واقعات میں رجسٹرڈ ہوئے ہیں جن میں خواتین کو جسمانی تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا
اسلاموفوبیا یعنی اسلام دشمنی آغاز حضرت محمد ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہی ہو گیا تھا ۔زمانہ نبوت کے یہود و نصاریٰ کی دشمنی کے بعد سب سے پہلے جس شخص نے اسلام کے خلاف معاندانہ روّیہ اختیار کیا وہ ساتویں صدی عیسوی کا ایک پادری ‘جان’تھا جو ‘جان آف دمشق ‘کے نام سے موسوم تھا جس نے (نعوذ باللہ)اسلام کو دثنی (Pagan)مذہب اور خانہ کعبہ کو بت سے تعبیر کیا۔ آٹھویں صدی عیسوی تک جان کے پیروکاروں نے اسلام پہ الزامات اور طعن و تشنیع کا سلسلہ بڑھاناشروع کر دیا یہاں تک کہ خاتم النبین ﷺ کی ذات با برکات پہ مختلف الزامات لگا کر دشنام طرازی کی گئی ۔ اسلامی فتوحا ت کے بعد یہ سلسلہ رکنے کی بجائے پھیلتا ہی چلا گیا ۔1096ءتا 1292ءہونے والی صلیبی جنگوں کو اگر دومملکتوں کے درمیان جنگ کی بجائے نصرانی اور مسلم نظریات کے درمیان جنگ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ۔ صلیبی جنگوں میں ہزیمت کا بدلہ عیسائیوں نے ادب کے میدان میں یوں چکایا کہ مسلم دشمنی کو ہوا دینا ہی ان کے ادب کا خاص حصہ قرار پایا اور ایک ایسا ادب تخلیق کیا گیا جس میں مسلم دشمنی کا عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔
آزادی اظہار کے نام پر نام نہاد مغربی طاقتوں او ر دانش ور حضرات نے آزادی اظہار کے نام پر جس قدر مذہبی منافرت پھیلائی ہے اس کا تصور محال ہے۔ جس کا نتیجہ یوں نکلا ہے کہ ہر دردمند مسلمان نہ صرف اہل مغرب سے دور ہوتا گیا بلکہ کچھ غیرت مند اور مجاہدانہ شعور رکھنے والوں نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ہے جس کا لازمی نتیجہ 9/11اور سانحہ لندن 7/7جیسے واقعات وقوع پذیر ہوئے۔ان واقعات کو آڑ بناتے ہوئے اہل کلیسا و مندر نے ایک ایسا طوفان کھڑا کیا جس کا سب سے بڑا مقصد مسلم دنیا کو یکا و تنہا کرنا تھا مگر اس کا نتیجہ کچھ یوں نکلا کہ مسلم ممالک کا بلاک مضبوط ہونا شروع ہو گیا ہے جس میں ترکی، ملائشیا اور پاکستان پیش پیش ہیں ۔ اس اتحاد کی واضح مثال مسلم دنیا کے ایک الگ ٹیلی ویژن چینل کے قیام کا منصوبہ ہے جہاں بیٹھ کر اہل عقل و خرد یورپی دنیا کو منہ توڑ جواب دینے کے قابل ہوں گے۔
جہاں تک ان اقدامات کی مذمت کی بات ہے تو دنیا کے ہر فورم پر مسلم سربراہان مملکت نے اس آزادی اظہار جیسی مذہبی دہشت گردی کی نہ صرف زبانی کلامی مذمت کی ہے بلکہ مختلف صورتوں میں اس کا بائیکاٹ بھی کیا ہے ۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھی ستمبر2019میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں مغربی د±نیا کو متوجہ کرتے ہ±وئے کہا تھا : ”اسلاموفوبیا کا تصور مغرب کا اپنا پیدا کردہ ہے۔پوری دنیا کے مسلمانوں کو کیسے انتہا پسند اور دہشتگرد کہا اور سمجھا جا سکتا ہے؟ نائن الیون کے بعد دنیا میں اسلاموفوبیا بہت تیزی سے پھیلایا گیاجس سے تفریق پیدا ہوئی۔ مسلمان خواتین کے حجاب تک پہننے کو مسئلہ بنا دیا گیا۔ مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا سے دکھ ہوتا ہے۔ مغرب کو سمجھنا چاہیے کہ اسلام کی توہین کی کوئی بھی کوشش مسلمانوں کے لیے بہت بڑا معاملہ ہے،اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ توہین کے واقعات سے مسلمانوں کے دل مجروح ہوتے ہیں۔ یہ آزادی اظہارِ رائے نہیں، دل آزاری ہے۔“
دیکھا جائے تو دورِ حاضر میں اسلام اور مسلم امّہ محاصرے میں ہے۔گو محاصرہ ایک جنگی طریقہ ہے لیکن یہ ایک کھلی جارحیت ہے اور حملہ ہے۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے تمام مسلم ممالک ایک ہی صف میںکھڑے یکجا اور یک زبان ہو کر نہ صرف ایسے ممالک کے باشندوں کا سفارتی بائیکاٹ کریں بلکہ ناروے جیسے ممالک کا تجارتی مقاطعہ بھی کریں تاکہ ایسے واقعات کا سدّباب ہو سکے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com