احساسِ برتری ثابت کرنے کی دوڑ

احساسِ برتری ثابت کرنے کی دوڑ
محمد طیب زاہر
سارا مسئلہ اختیارات پر برتری کا ہے۔جس کے پاس تھوڑی سی طاقت کیا آجائے وہ ساتوں آسمان پر پہنچتا ہوا نظر آتا ہے۔کمزور پر طاقتور کے غلبہ پانے کی ریت اب پرانی ہوچکی ہے۔اب مقابلہ ہے تو صرف یہ کہ کون سب سے زیادہ قوت رکھتا ہے۔زمینی خدا بننے کی اس روش میں ہم یہ بات بالائے طاق رکھ چکے ہیں کہ اوپر بھی ایک ذات بیٹھی ہے جو تمام جہانوں پر غالب ہے۔اب یہ بحث کہ دل کے اسپتال میں کس نے کس کو زیادہ مارا کون غلط کون درست۔دو پڑھے لکھے طبقوں میں جہالت کی انتہا دیکھ کر یقینی طور پر پوری قوم کو مایوسی ہوئی۔ پہلے پہل تو جس سے خوف آتا تھا وہ پولس تھی جو یہ نعرہ الاپے پائے جاتی تھی (پولیس کا ہے حق رشوت لیکن جیب آپ کی) لیکن دل کے اسپتال پر حملے کے تاریک ترین دن کے بعد حیران کن بات دیکھنے میں آئی کہ پولیس بھی اتنی لاچار اور بے بس ہوسکتی ہے کہ وہ وکیلوں سے ڈر کر مداخلت ہی نہیں کرسکی اور اس کھیل کا تماشا دیکھتی رہی۔بلاول بھٹو کی یہاں ایک بات یاد آگئی وہ حکومت کو کٹھ پتلی اور سیلیکٹڈ کے القاب سے نوازتے ہوئے ہمیں نظر آتے ہیں ٹھیک اسی طرح یہ پولیس تو ریاست کی کٹھ پتلی بھی نہیں دکھائی دی۔کٹھ پتلی تو کسی نہ کسی کے اشارے پر ناچتی ہے لیکن ان کا تو پتھر جیسا حال تھا۔اس سارے واقعے میں حکومتی نا اہلی بھی شیشے کی طرح آشکار ہوتی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک ہی نہ کرسکی۔فیاض الحسن چوہان عین موقع پر انٹری دیتے ہیں اور اس کو بھی بعض حلقے محض ان کی پوائنٹ اسکورنگ سے جوڑتے ہیں۔چلیں ایک لمحے کے لئے مان لیتے ہیں کہ انہوں نے صرف اپنی واہ واہ کیلئے یہ کیا۔قارئین کرام کیا کروں اب فیاض الحسن چوہان کی انٹری والے سین پر مجھے فیصل واؤڈا یاد آگئے کہ کیسے وہ چینی قونصلیٹ پر حملے کے بعد جب پانی سر سے گزر گیا تب ایکشن ہیرو کی طرح گن لئے نمودار ہوئے اور ان کو بھی ان کی اس نام نہاد بہادری پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔حکومت میں ہیں کچھ ایسے لوگ جن کی وجہ سے خان صاحب کی سبکی ہوتی ہے لیکن یہاں فیاض الحسن چوہان کا معاملہ توڑا الگ ہے۔اگر ایک لمحے کے لئے مان لیا جائے کہ انہوں نے سب دکھاوے کے لئے کیا تو اتنے بھپرے ہوئے وکلاء کا گروہ تھا نمائش کے لئے بھی جاتے ہوئے انسان ایک بار سوچے گا ضرور۔اور وہ بھی ایسے میں جب وہاں ن لیگ کے وکلاء بھی موجود تھے تو یہ تو ممکن نہیں تھا کہ وہ ن لیگ کے وکلاء سے کہتے کہ میں آرہا ہوں مجھ پر ہاتھ ہلکا رکھنا؟ ہوسکتا ہے کہ وہ یہ سوچ کر آئے ہوں کہ اگر ان پر دھاوا بولا جاتا ہے تو تحریک انصاف کے وکلاء لازمی ان کو اپنے حصار میں لے لیں گے اور ہوا بھی ایسے ہی ورنہ ان کا بچنا ناممکن تھا۔جہاں تک بات ہے کہ یہ رد عمل تھا۔میں یہ نہیں کہتا کہ ایک طبقہ غلط ہے۔ڈاکٹرز بھی اپنے آپ کو کہنے کو مسیحا کہتے ہیں لیکن علاج کی غرض سے جانے والے مریض یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ خدا ڈاکٹر کے پاس جانے سے ہمیں محفوظ رکھے۔ڈاکٹر کھال کھینچتے ہیں مہنگا علاج کرتے ہیں۔اور آئے دن اپنی تنخواہوں پر احتجاج کرنا اور اس کی وجہ سے کئی مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑنا اور بعض کی وقت پر علاج نہ ملنے پر موت ہوجانا یہ سب بھی ہم نے دیکھا اور اب بھی اس سانحے کے بعد کئی ڈاکٹرز سراپا احتجاج بھی ہیں اور خبریں ہیں کہ ان کے کام نہ کرنے کی وجہ سے کئی مریض دم توڑ چکے۔تو یہ کون سا نیک کام ہے؟سارے مسئلے کی جڑ وہ ڈاکٹر کی ویڈیو قرار پا رہی ہے۔ وکلاء کہتے ہیں کہ اگر ایف آئی آر کاٹنی ہے تو ڈاکٹر کے خلاف بھی کاٹی جائے جنہوں نے وکلاء کو زدو کوب کیا۔بالکل کاٹنی چاہئے اگر وہ غلط ہیں کوئی معافی نہیں ملنی چاہئے لیکن یہاں ان پہلوؤں کو بھی مدِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ایک تھنک ٹینک یہ کہتا ہے کہ جب ڈاکٹرز نے وکیل کو مارا اور اس کے بعد اور وکلاء بھی آئے اور ڈاکٹرز کے گروپ نے اُن کو بھی مارا تو اُس کے بعد وکلاء اور ڈاکٹرز میں مفاہمت ہوگئی تھی اور معاملہ ختم ہوگیا تھا اور جس ڈاکٹر کی وکلاء کو مارنے اور اپنی شان میں قصیدے پڑھنے کی ویڈیو منظر عام پر آئی یہ اسی وقت کی تھی اور بعدازاں کسی نے اس ویڈیو کو لیک کردیا تھا اور اس ویڈیو کے بعد وکلاء برادری اشتعال میں آئی اور اس کی آنکھوں میں ڈاکٹرز کے خلاف خون اُتر آیا اور یہ محض انا کا مسئلہ بن کر رہ گیا۔اور دوسرا پہلو بھی قابل غور ہے کہ جو وکلاء یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے ڈاکٹرز کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہئے تو جناب آپ تو اپنا بدلہ لے چکے ہیں اور وہ ڈاکٹرز سے بھی کئی زیادہ اور ڈاکٹرز سے زیادہ مریضوں سے۔جو ڈاکٹر ویڈٰیو میں اپنے وکلاء کو مارنے کے کارنامے بتا رہا تھا اُس پر بھی سد افسوس کہ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ الیکشن لڑنے جا رہا ہے اور اپنی آس پاس اکھٹی کی ہوئی عوام سے اپنے کارنامے گنوا کر ان سے ووٹ لینے آیا ہے۔ڈاکٹرز بھی اپنے آپ میں ایک مافیا ہیں جیسا میں نے پہلے کہا کہ ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق طاقت کے گھونٹ پیتا ہے اور اس کے نشے میں چور ہو کر وہ اپنی برتری ثابت کرنے کے درپے ہوجاتا ہے۔ڈاکٹرز بھی قصور وار ہیں اگر پہلے ہی ان کے خلاف ایکشن لے لیا جاتا تو شاید معاملہ اس نہج پر نہ پہنچتا۔اس سارے واقعے کو اس سے بھی جوڑا گیا کہ حکومت اپنی نااہلیاں اور ناکامیاں چھپانے کے لئے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے اور دل کے اسپتال پر حملے والے دن ہی احتساب عدالت نے شہباز شریف اور ان کے اہلخانہ کے اثاثے منجمد کرنے کا نہ صرف حکم دیا بلکہ اسی دن آصف زرداری کو بھی ریلیف ملا لیکن یہ بات مضحکہ خیز ہے۔اور جہاں تک بات ہے حکومتی نا اہلی کی تو یہ بات درست ہے مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے لیکن اگر حکومت دھیان ہٹانا چاہتی تو یہ عارضی ہوتا پھر عوام کی توجہ ان مسائل پر آنی ہی آنی تھی۔اور یہاں آخر میں ایک اور اہم بات جو کرنا ضروری ہے کہ وکلاء برادری یہ شکایت کرتی ہوئی نظر آتی ہے کہ ہماری توڑ پھوڑ کی ویڈیو تو دکھائی گئی لیکن یہ نہیں دکھایا گیا کہ کس طرح وہ مریضوں کو ویل چئیر پر بٹھا کر شفٹ کر رہے تھے گو کہ ایسے میں انہوں نے ڈاکٹرز کی مدد کی اگر خیر سگالی ہی دکھانی تھی تو پھر توڑ پھوڑ کون کر رہا تھا؟اور یہ بھی کہا گیا کہ ڈاکٹرز نے خود اسپتال کے شیشے توڑے اندر سے پتھراؤ کیا اور اس کی ویڈیو کسی نے نہیں دکھائی۔میں کسی بھی طرح ڈاکٹرز کا دفاع نہیں کر رہا اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کو بھی وہی سزا ملنی چاہئے جو پُرتشدد وکلاء کو ملے گی۔لیکن ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پتھراؤ اگر اندر سے ہوا تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ ڈاکٹرز کو پتہ تھا کہ اسپتال پر وکلاء حملہ کریں گے اور وہ پہلے سے تیار تھے؟اس لئے انہوں نے پہلے سے ہی پتھر جمع کرنا شروع کردئیے اور جیسے ہی وکلاء نظر آئے اُن پر حملہ کردیا؟اس منطق کو ہضم کرنا ذرا مشکل ہے اور اگر ڈاکٹرز نے خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لئے اسپتال کے بیڈز،مشینری غرضیکہ ہر شے توڑی تو کسی نے اس کی ویڈیو کیوں نہ بنائی؟ چلیں مان لیا کہ وکلاء چلے گئے تھے تب ڈاکٹرز نے ایسا کیا اس لئے وکلاء میں سے کوئی ویڈیو نہ بنا سکا تو کوئی مریض تو بنا سکتا تھا جیسا کہ اُس ڈاکٹر کی ویڈیو وائرل ہوئی۔جو بھی ہوا بہت برا ہوا اب وقت ہے کہ یہ دو پڑھے لکھے طبقے ہوش کے ناخن لیں اور ایک دوسرے سے گلے لگ کر اور اختلافات کی دیوار کو گرا کر اس ملک اور عوام کے لئیاپنا اپنا مثبت کردار ادا کریں اور اپنے پر لگے بدنامی کے داغ کو صاف کرنے کی سہی کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com