احتسابی عمل اور موجودہ حکومت کی پریشانی

احتسابی عمل اور موجودہ حکومت کی پریشانی
تحریر: انور علی
احتساب کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے جس سے کوئی بھی ذی شعور انسان  انکار نہیں کرسکتا لیکن پاکستان میں جب بھی احتساب کا نام آتا ہے بہت سے لوگوں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ اسے تاریخی تناظر میں دیکھنا شروع کر دیتے ہیں کے شاید اس اچانک سے بلند ہوتے ہوئے احتساب کے نعرے کے پیچھے کوئی سازش ہے ۔جبکہ اس احتساب کے حامی اس کی مختلف توجیہات پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد جب خواجہ ناظم الدین کو وزیر اعظم بنایا گیا تو ان کی نظام کے اوپر گرفت مضبوط نہ ہوسکی جس کا ایوب خان نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرلیا- ایوب خاں نے آتے ہیں احتساب کا نعرہ بلند کیا اور ایبڈو کا کالا قانون نافذ کردیا جس کے ذریعے ناپسندیدہ سیاستدانوں کو احتساب کی گرم بھٹی سے گزار کر سزائیں سنائی گئیں اور عوام کو یہ تاثر دیا گیا کہ آپ کے مسائل کی وجہ انہی سیاستدانوں کی لوٹ مار ہے یہ سیاستدان لیڈر نہیں قومی مجرم ہے اور جب تک یہ قومی مجرم اپنے انجام کو نہیں پہنچتے آپ کے مسائل حل نہیں ہوسکتے اس احتساب کے ذریعے عوامی مسائل تو نہ حل ہو سکے لیکن احساس محرومی کا پودا ضرور کاشت کر دیا گیا۔ اس ملک میں مختلف وزرائے اعظم کے ادوار آتے رہے اور احتساب کے نعرے بھی لگتے رہے لیکن عوام کی حالت نہ بہتر ہوسکیں حتیٰ کہ بہت ہی شریف اور منکسر المزاج وزیراعظم بھی آئے جن میں محمد خان جونیجو اور میر ظفراللہ جمالی شامل ہیں لیکن وہ بھی راندا درگاہ ہوئے اور عوام وہیں کی وہیں رہی ۔ کافی عرصے بعد ملک میں جمہوریت بحال ہوئی تو چند سال بعد پھر سے ایسی فضا بنائی گئی کہ جیسے سیاست دان اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہوں حالانکہ معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو 2014 سے معیشت میں بہتری آنا شروع ہوئی اور معاشی اعشاریے کافی بہتر ہوئے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر دوگنا ہوئے محصولات میں بھی دوگنا اضافہ ہوا اور غربت کی شرح میں کمی آئی ۔ لیکن 2018 کے الیکشن میں پھر سے احتساب کا نعرہ لگا اور ہمیں مہنگائی اور ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ حکمرانوں کی لوٹ مار بتایا گیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ 12 ارب ڈالر سالانہ منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک پیسہ منتقل کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی دس ارب روپے روزانہ کی کرپشن ہوتی ہے جس کی وجہ سے ملک ترقی نہیں کر رہا۔ کیوں کہ یہ نعرہ بحثیت قوم ہمارے لئے ہمیشہ سے ہی خوش کن رہا ہے اس وجہ سے ہم نے پھر یہ یقین کرلیا کہ موجودہ حکمران ہی اصل مسائل کی جڑ ہیں اور ان کے جاتے ہی ملک ترقی کی شاہراہ پر چھلانگیں لگاتا ہوا آگے بڑھے گا اور آنے والے حکمران اگر کچھ نہ بھی کریں اور صرف سالانہ منی لانڈرنگ اور روزانہ کی کرپشن کا پیسہ بچا لیں تو عوام کے حالات بہتر ہوجائیں گے ۔ اس ماحول میں سونے پہ سہاگا یہ کہ انتخابات کے عین وقت پر سیاستدانوں کی پکڑ دھکڑ کر سلسلہ شروع ہوا جس کے انتخابات میں متوقع نتائج بھی حاصل کر لئے گئے اور حکومت تبدیل کر دی گئی جس کی تبدیلی پر آج تک سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ اب قوم چپ کر کے دم سادھے بیٹھی تھی کہ ہو سکتا ہے اس تبدیلی سیان کے لیے حالات میں بہتری آئے لیکن حکمرانوں نے اپنی توجہ عوامی ریلیف کی بجائے سابق حکمرانوں کی کیسوں پر مرکوز رکھی اور انہیں عدالتوں سے نااہل اور چور ثابت کرنے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا گیا جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ۔ لیکن یہ کامیابی وقتی کامیابی ثابت ہو رہی ہے جس میں کافی لوگ اب ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں اور کچھ رہائی کے منتظر ہیں نیب نے 90 دن کے اندر ریفرنس فائل کرنا ہوتا ہے لیکن بہت سے لوگ جنہیں جیل میں ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے ان پر ابھی تک ریفرنس فائل نہیں کیا جا سکا اور کچھ کیسز میں آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا گیا اور انہیں سزا بھی سنا دی گئی جبکہ اس میں بنیادی قانونی بات یہ کہ اثاثوں کا تعین کیے بغیر ہی یہ سزا سنائی گئی جو اس نام نہاد احتساب کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ عوام اب آہستہ آہستہ اس تبدیلی سے بیزار ہونا شروع ہوگئے ہیں کیوں کہ وہ حکمرانوں کے منہ سے اپنے مسائل کی بجائے سابق حکمرانوں کی کرپشن کے قصے سن سن کے تنگ آ چکے ہیں دوسری طرف حکومت کے حامی دانشور بھی عوامی دباؤ کی وجہ سے عوام کی بات کرنا شروع ہوگئے ہیں اور حکومت کی بے جا سپورٹ کی وجہ سے معافیاں مانگ رہے ہیں جبکہ کچھ سابق حکمرانوں کے کیسوں میں بھی کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی اور وہ بدستور جیلوں میں قید ہیں اگر یہ صورت حال اسی طرح برقرار رہی تو حکومت کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں معاشی سست روی سے عوام کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے اور اگر کچھ عرصے تک معاشی حالات اسی طرح رہے تو یہ مایوسی غصے اور نفرت میں تبدیل ہو سکتی ہے جو نہ صرف اس حکومت کے لیے خطرناک ہو گی بلکہ اس نظام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے حکومت کی نیب کے ذریعے اپوزیشن کے کیسوں میں بے جا مداخلت اور انصاف کے نظام میں تاخیری حربوں سے سابق حکمرانوں کے لیے ہمدردی کی لہر پیدا ہو رہی ہے جو آہستہ آہستہ واضح ہونا شروع ہو جائے گی ۔اس ساری صورتحال میں اگر موجودہ حکومت نے عوامی رلیف کے لیے انقلابی اقدامات نہ کیے تو حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com