ابوالفطرت میر زیدی۔ ایک تاثر

مری اولاد کو بس دولتِ ایمان کافی ہے۔۔ملے میراث میں تلوار اور قرآن کافی ہے
ابوالفطرت میر زیدی۔ ایک تاثر
ڈاکٹر توصیف تسلیم
ابوالفطرت لقب، نام سید میر وزارت حسین زیدی، میر زیدی کے نام سے شہرت پائی، میر زیدی ۰۱اگست ۹۱۹۱ء کو مظفر نگر(متحدہ ہندوستان)، یو پی کے قصبہ تسلہ میں پیدا ہوئے، اُن کے والد سید میر بشارت حسین زیدی، ریاست خیرپور(سندھ) میں شاعرِ دربار اور وزیر تھے۔ میر زیدی کے بچپن اور لڑکپن کازمانہ خیرپور ہی میں گزرا۔ آدمی کا بچپن جن لوگوں اور گلیوں کے درمیان گزرتا ہے، وہ اُن کو کبھی نہیں بھلاپاتا۔ میرزیدی کو اپنی زندگی میں مختلف مقامات، میرٹھ، لکھنؤ، دیوبند، لاہور، بھکر، نوشہرہ اور کراچی میں رہنا پڑا مگر خیرپور کی یاد کبھی اُن کے دل و دماغ سے محو نہیں ہوسکی، کیونکہ خیرپور کی خاک میں اُن کے آباہ اور عزیزوں کی ہڈیاں دفن ہیں:
باپ اور دادا کی تربت مضطرب ہوتی نہ ہو
یاد کرکے گھر میں چھوٹی بہن روتی نہ ہو
بھائیوں کو تربتوں میں میری یاد آتی نہ ہو
ماہئی بے آب کی مانند تڑپاتی نہ ہو
گُل پڑے ہوں گے چراغ اُن سب کی قبروں کے وہاں
ہجر کے داغوں سے ہے سینہ میرا روشن یہا
۰۴۹۱ء میں والد کی وفات کے بعد، میر زیدی خیرپور سے لاہور آگئے۔ اس کے دو برس بعد آرمی میڈیکل میں ملازمت اختیار کی اور زندگی بھر یہ زنجیر اُن کے پاؤں میں پڑی رہی۔ لاہور میں قیام کے دوران انہوں نے نوعمری کے باوجود متعدد اخبارات، ہفت روزہ رسائل اور ماہناموں کی ادارت بھی کی۔ وہ لاہور سے میرٹھ اور لکھنؤ ہوتے ہوئے دیوبند آگئے، جہاں انہوں نے مستقل سکونت اختیار کرلی۔ یہیں ۵۴۹۱ء میں رشتہئ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ دیوبند سے لاہور اور پھر نوشہرہ آگئے، جہاں ایک طویل مدّت بسر کی۔ ۰۸۹۱ء میں پنشن لے کر، کراچی آگئے۔ جہاں ۲۸۹۱ء میں تریسٹھ برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا اور وہیں مدفون ہیں۔
میر زیدی ؔنے شعرگوئی کا آغاز ۸،۹ برس کی عمر میں خیرپور کے شاعرانہ ماحول میں کیا۔ سہاؔمجدّدی بھوپالی، علامہ تاجور نجیب ؔآبادی اور حضرت سیماب اکبر آبادیؔ سے مشورہ سخن کرتے رہے،اولین سفری مجموعہ”بادہئ فطرت“ کے نام سے ۸۳۹۱ء میں شائع ہوا۔ اُن کے احباب میں اختر ؔشیرانی، احسان دانش، ساغرؔ نظامی، پروفیسر شوکت واسطیؔ، کلیم جلسریؔ، رئیس امروہویؔ، سید محمد تقیؔ اور قمر جلال آبادی، حفیظ جالندھریؔ، جوش ؔملیح آبادی، ڈاکٹر جمیل جالبی کے نام لیے جاسکتے ہیں۔
۶۳۹۱ء میں جب برصغیر میں ”انجمن ترقی پسند مصنفین“ کی داغ بیل پڑی تو میرزیدی، پسماندہ افراد سے دلی ہمدردی کے سبب وہ اِس انجمن سے وابستہ ہوگئے۔ مگر اپنے حاشیہ دینی کے سبب وہ ترقی پسند لکھنے والوں کے ساتھ، دیر تک چل نہیں سکے۔
میر زیدی کے مجموعہئ کلام ”میخانہئ فطرت“ میں اس خاص موضوع سے متعلق متعدد نظمیں موجود ہیں۔ ۸۳۹۱ء میں میر زیدی کا اولین شعری مجموعہ”بادہئ فطرت“ شائع ہوا۔ جب سے ۱۸۹۱ء تک انہوں نے اپنی منظومات کے دس مجموعے مرتب کیے۔ ایک برس (۸۳۹۱ء) میں اُن کے چار شعری مجموعے (بادہئ فطرت، نشانِ فطرت، آتشِ فطرت اور نوائے فطرت، اسی طرح ۲۵۹۱ء میں تین شعری مجموعوں (شعلہئ فطرت، مینائے فطرت اور جمال فطرت) کی اشاعت ایک حد درجہ غیر معمولی واقعہ ہے جس کی نظیر خود ان کے زمانے میں تو کیا، آج بھی نظر نہیں آتی۔ یہ صورتِ حال شعر و سخن میں ان کی دلی وابستگی، اُن کی پُرگوئی اور تخلیقی و خود کی آئینہ دار ہے۔
تمام شاعری ایک ایسی بے تاب روح کا ماجرا ہے جسے اپنے لوگوں، اپنے وطن، اپنی تہذیب، اپنی مذہبی روایات اور اپنی تہذیبی اقدار سے یک گونہ لگاؤ ہے۔ میر زیدی کی نظمیں اور غزلیں تمام کی تمام منظوم بیان کے تحت آتی ہیں۔ یہ تمام شاعری ایک تعمیری قدر رکھتی ہے، شاعر اپنے شعر کے ذریعہ آنے والے ایک سنہری دور کا خواب دیکھ رہا ہے۔ اس کلام سے اُس دلسوزی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جو اس خاکداں کو جنّتِ موعودہ میں بدلنے کی آرزومند ہے۔ خود شاعر کو اپنے کلام کے بارے میں شعور ہے کہ اس کا فکرو فن صوراسرافیل ہے، نغمہئ جبریل نہیں۔ اسی لیے اس کے لب و لہجہ پر، رجز کا گمان ہوتا ہے۔
انہوں نے بعض خاص موضوعات پر جستہ جستہ کچھ نظمیں تخلیق کیں جو ان کے مختلف مجموعوں میں شامل ہیں، مثلاً افواج کے بارے میں ان کی منظومات یا پھر ”عورت“ کے موضوع پر ان کی متعدد شعری نگارشات مگر یہ منظومات ایک بنیادی موضوع سے متعلق ہونے کے باوجود بکھری بکھری ہیں ورنہ شاعر کو جو قدرت بیانیہ پر حاصل تھی، اس سے کام لے کر ان کو زیادہ مربوط انداز میں، سلسلہ وار پیش کرسکتا تھا، اگر ایسا ہوتا تو یہ نہ صرف اردو بیانیہ شاعری میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہوتا بلکہ خود شاعر کو بھی زندہ جاوید بنادیتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com