آنے والا دور

رباب عائشہ
ہر دور کا انسان ماضی ،حال اور مستقبل جاننے کے لیے بے چین رہا ہے۔مستقبل کے پردے میں کیا چھپا ہے؟اس کی کھوج انسان کو بے چین کیے رہتی ہے۔یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی بادشاہ کی ہے جو گزرے ہوئے ہزاروں سال کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔

وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ کوئی اسے بتادے کہ اس کے بعد آنے والادور کیساہو گا؟
سلیمان بادشاہ کے دل میں یہ تمنا کیسے جاگی۔ہوایوں کہ اللہ میاں نے موت کے فرشتے عزر ائیل کو بادشاہ کی جان لینے کے لیے بھیجا۔بادشاہ کوئی معمولی انسان نہیں تھا۔
وہ نہایت عقل مند اور دانش مند تھا۔عزرائیل نے جب اسے بتایا کہ وہ اس کی جان لینے آیا ہے تو بادشاہ نے کہا کہ میں تمھاری بات مان سکتا ہوں ،لیکن پہلے مجھے یہ بتایا جائے کہ میرے بعد آنے والا حکمران کیسا ہو گا۔

میں نے پانچ سو سال حکومت کی ہے مجھے یہ فکر ہے کہ میرے بعد میری رعایا کس حال میں ہو گی۔

عزرائیل نے واپس جا کر جب یہ بات اللہ میاں سے کہی تو اللہ تعالیٰ نے کہا چلو ہم بادشاہ کو چالیس دن کی اور مہلت دیتے ہیں ،لیکن تم اس سے جاکر کہو کہ ان چالیس دنوں میں وہ یہ معلوم کرے کہ ماضی میں دنیا کیسی تھی۔اگر اس نے یہ معلوم کر لیا تو اس کا موجودہ دور سے مقابلہ کرنے کے بعد اس کی خواہش ہو گی کہ وہ اس دنیا میں مزید نہ رہے۔

عزرائیل نے واپس آکر بادشاہ کو اللہ میاں کا پیغام پہنچا دیا۔بادشاہ نے اپنے مشیروں سے پوچھا:”دنیا میں کس جانور نے سب سے لمبی عمر پائی ہے۔“
مشیروں نے کہا کہ وہ سفید گدھ جواک بابا کے نام سے مشہور ہے۔دنیا کا سب سے پرانا پرندہ ہے۔
بادشاہ اس سفید گدھ کے پاس گیا اورکہا:”میں دنیا میں پانچ سو سال سے حکومت کر رہا ہوں اب مجھے صرف چالیس دن کی زندگی اور ملی ہے۔مجھے بتاؤ کہ ماضی میں یہ دنیا کیسی تھی؟“
گدھ نے کہا:”میری عمر تو صرف پندرہ سوسال ہے بہتر ہے کہ تم اس پہاڑ کی دوسری جانب رہنے والے میرے بھائی سے مل لو جو دوہزار سال سے زندہ ہے۔

بادشاہ پہاڑی کی دوسری طرف جا کر اس بوڑھے گدھ سے ملا۔گدھ نے کہا:”میں تمھیں اپنے تجربات بتاتا ہوں۔ہمارے علاقے میں ایک دفعہ بہت شدید برف باری ہوئی۔کھانے پینے کی تمام چیزیں برف کے نیچے دب گئیں۔مجھے کئی دن تک کھانے کو کچھ نہ ملا تو بھوک سے نڈھال ہو گیا۔
خوراک کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھر رہا تھاکہ سونے کا ایک مینار نظر آیا۔میں مینار کے اوپر بیٹھ گیا۔میری نظر مینار سے نیچے پڑی تو دیکھا لوگ نماز پڑھنے میں مصروف ہیں۔پہلی قطار میں سفید ڈاڑھیوں والے لوگ بیٹھے ہیں،دوسری قطار میں جو لوگ تھے ان کی داڑھیاں کالی تھیں اور سب سے پچھلے والے کلین شیو تھے۔
نماز ختم ہونے کے بعد جب چند لوگوں نے دیکھا کہ میں اوپر نڈھال پڑاہوں تو ایک بزرگ نے کہا:”یہ پرندہ بھوک سے مررہا ہے ،چلو ایک بیل ذبح کرتے ہیں اور اس کو کھانے کو کچھ دیتے ہیں۔ان نیک لوگوں نے ایسا ہی کیا میں نے خوب پیٹ بھر کر کھایا اور میرے جسم میں توانائی آگئی۔
سو سال بعد پھر ایک مرتبہ ایسا ہی ہو ا شدید سردی اور برف باری کی وجہ سے مجھے کو کچھ نہیں ملا ۔میں پھر مسجد کے ایک مینار پر جا بیٹھایہ مینار چاندی کا تھا اور اس مسجد میں بھی لوگ نماز ادا کررہے تھے۔میں نے دیکھا کہ یہاں پہلی قطار میں کالی داڑھیوں والے تھے۔
ان کے پیچھے سفید داڑھی والے اور آخر میں وہ لوگ تھے جن کی داڑھیان نہیں تھیں۔ایک بار پھر پہلے کی طرح ہوا۔نمازیوں نے جب مجھے بھوک سے نڈھال دیکھا تو انھوں نے کہا چلو ایک بھیڑ ذبح کر کے اس کو کھانے کو کچھ دے دیتے ہیں۔انھوں نے ایسا ہی کیا۔
میں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور پھر اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔اس واقعہ کے بعد پھر جب سو سال اور گزرے تو ایک بار پھر برف کا طوفان آیا۔مجھے کئی دن تک کھانے کو کچھ نہیں ملا تھا میں سوچا کیوں نہ کسی مسجد کے مینار پر جا بیٹھوں اس طرح پیٹ بھرنے کا سامان تو ہوہی جائے گا۔
اس بار جب میں مسجد کے مینار پر جا کر بیٹھا تو مجھے پتا چلا کہ یہ مینار نہ تو سونے کا ہے نہ چاندی کا بلکہ یہ تانبے کا بنا ہواہے ۔اب جو لوگ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے ،ان میں سے بغیر داڑھیوں والے سب سے آگے تھے۔اس کے پیچھے سیاہ داڑھیوں والے تھے اور سب سے پیچھے سفید داڑھیوں والوں کو جگہ ملی تھی۔
میں اب بھی پر اُمید تھا کہ شاید کھانے کو کچھ مل جائے۔اچانک میرے کانوں میں باتیں کرنے والے دو آدمیوں کی آواز پڑی۔ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ وہ دیکھو ایک پرندہ مینار پر بیٹھا ہے ذرا بھاگ کر میری بندوق تو لے آؤ اسے مار کر ایک وقت کا کھانا تو بن جائے گا۔
میں نے سنا تو بھاگ کھڑا ہوا۔“
گدھ نے بادشاہ سے کہا:”دنیا روز بروز زوال کی طرف گامزن ہوتی جارہی ہے،تہذیب وتمدن منٹ گیا ہے ۔لوگوں کے دل چھوٹے ہو گئے ہیں۔خود غرضی اور لالچ میں اضافہ ہو گیا ہے۔لوگ خیرات دینے میں بھی کنجوسی کرتے ہیں۔
تمھارا کیا خیال ہے کہ ان حالات میں تمھارے بعد آنے والا حکمران پار سااور متقی ہو گا۔“
بادشاہ کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ آنے والا وقت گزرے ہوئے زمانے کے مقابلے میں تکلیف دہ ہی ہوگا،اس لیے دنیا میں مزید رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔پھر اس نے اللہ کی مرضی کے سامنے سر جھکا دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com