آئیں! سنیں کہانی…… آئیں! لکھیں کہانی

عبدالنافع
کہانی سننا بچوں کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ خاندان کے بزرگ اور والدین بچوں کو رات کو سونے سے پہلے دلچسپ کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ ان کہانیوں میں تفریح کے عنصر کے ساتھ اچھا سبق بھی ہوتا تھا۔ عام طور پر کہانیاں بچوں کو رات کو سونے سے پہلے سنائی جاتی تھیں۔ مائیں بچوں کو لوریاں بھی سناتی تھیں۔ بچے مزے سے لوریاں سنتے سنتے سو جاتے تھے۔ لیکن اب وقت بہت بدل چکا ہے۔ بچوں پر نصاب کا بوجھ بہت زیادہ ڈال دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بچے ٹی وی اور موبائل پر مصروف ہوگئے ہیں۔ اور وہ بزرگوں کے پاس نہیں بیٹھتے۔ والدین کے پاس بھی اب بچوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ اس لیے کہانی سننے کا رواج کم ہوگیا ہے۔ لیکن بہت سے ادارے ایسے ہیں جو اس روایت کو قائم رکھنے اور فروغ دینے کے لیے کوششیں کرتے رہتے ہیں۔
اکادمی ادبیات اطفال بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے کئی سال سے سرگرم ہے۔ کئی کانفرنسیں اور سیمینارز منعقد کروانے کے علاوہ بچوں کے لیے کتابیں بھی شائع کر رہی ہے۔ اسی طرح تعمیر پاکستان پبلی کیشنز اینڈ فورم بھی اس حوالے سے معروف عمل ہے۔ سٹی سکول بھی ایسی مفید تقریبات کا انعقاد کرتا رہتا ہے۔
20 نومبر بچوں کے عالمی دن کے حوالے سے سٹی سکول راوی کیمپس جوہر ٹاؤن نے خصوصی سیشن”آئیں! سنیں کہانی……آئیں! لکھیں کہانی“ کا انعقاد کیا۔ معروف شاعر، ادیب اور ڈرامہ”عینک والا جن“ کے پروڈیوسر حفیظ طاہر اور ایڈیٹر”پھول“ و صدر پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی محمد شعیب مرزا مہمان خصوصی تھے۔ کوآرڈینیٹر شازیہ زاہد نے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کہانی سننے کی دم توڑتی روایت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے اس سیمینار کا اہتمام کیا ہے۔ ہم دونوں مہمانوں کے شکر گزار ہیں جو آج بچوں میں کہانی سننے اور کہانی لکھنے کا شوق بڑھانے آئے ہیں۔
محمد شعیب مرزا نے پرنسپل رخسانہ طارق، کوآرڈینیٹر شازیہ زاہد اور لائبریرین عائشہ خان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مبارکباد دی کہ اس مفید سیشن کا انعقاد کیا۔ انہوں نے بچوں کو کہانی لکھنے کے طریقہ کار، موضوعات کی تلاش اور اچھی تحریر کی خوبیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بچوں پر زور دیا کہ وہ اپنے بزرگوں اور والدین کو بھی وقت دیں اور ان سے کہانیاں سنیں۔ ان کا احترام اور خدمت کریں اور ان سے دعائیں لیں۔ انہوں نے بچوں کو اپنی دو کہانیاں بھی سنائیں۔ انہوں نے بچوں سے کہا کہ کہانیاں لکھ کر بھجوائیں۔ اچھی کہانیوں پر انعام بھی دیں گے۔
نامور شاعر ادیب اور ڈرامہ ”عینک والا جن“ کے پروڈیوسر حفیظ طاہر نے ”عینک والا جن“ کی پروڈکشن کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے اپنے ناول ”منزل منزل“ سے کچھ اقتباسات پڑھ کر سنائے۔ انہوں نے بچوں سے کہا کہ کہانیاں ہمارے اردگرد بکھری پڑی ہیں بس ان کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سکول انتظامیہ کی اس کاوش کو سراہا اور کہا کہ بچوں کو لائبریری ضرور جانا چاہیے اور ہر ہفتے لائبریری کا پیریڈ ہونا چاہیے تاکہ بچے اچھی اچھی کتابیں پڑھ سکیں۔ انہوں نے اپنی ایک طویل منظوم کہانی بچوں کو بہت دلچسپ انداز میں سنائی جسے سن کر بچے بہت محفوظ ہوئے۔
اس موقع پر کتابوں کا سٹال بھی لگایا گیا تھا جس میں بچوں نے بہت دلچسپی لی۔ سیشن کے اختتام پر کوآرڈینیٹر شازیہ زاہد نے دونوں مہمانوں کو گلدستے اور یادگاری شیلڈز پیش کیں۔ بعد میں دونوں مہمانوں کی پرنسپل رخسانہ طارق سے ملاقات ہوئی اور بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے اور بچوں میں مطالعہ کتب میں اضافے کے لیے بہت سے امور زیر غور آئے۔ محمد شعیب مرزا نے پرنسپل اور کوآرڈینیٹر کو ”پھول“ میگزین اور اپنی کتب بھی پیش کیں۔
٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com